یا امیرِ المومنین !
یا امیرِ المومنین !
علی علی ! علی علی ! علی علی علی !
علی علی ! علی علی ! علی علی علی !
جو شیرِ خدا، شانِ نبی، شاہِ ولی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
وہ میرا علی ہے، وہ میرا علی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
شاہِ مرداں، شیرِ یزداں، قوتِ پروردگار
لا فتیٰ الا علی، لا سیف الا ذوالفقار
دنیاِ ولایت کی جسے شاہی ملی ہے
جس کے درِ عالی پہ جبیں سب کی جھکی ہے
وہ جس کی صحابہ میں بہت شان بڑی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
وہ میرا علی ہے، وہ میرا علی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
جو مفلس و لاچار کو دیتا ہے سہارا
چمکاتا ہے جو سب کے مقدر کا ستارہ
ہر ایک بلا جس کے وسیلے سے ٹلی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
وہ میرا علی ہے، وہ میرا علی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
وہ جس کے لیے شاہ نے سورج کو پھرایا
وہ جس نے دیا عشقِ محمد کا جلایا
وہ جس کی ثنا خود میرے سرکار نے کی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
وہ میرا علی ہے، وہ میرا علی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
شاہِ مرداں، شیرِ یزداں، قوتِ پروردگار
لا فتیٰ الا علی، لا سیف الا ذوالفقار
ہر ایک طرف جس کی ولایت کا ہے چرچا
ابدال و ولی، غوث و قطب جس کے ہیں شیدا
وہ جس کے درِ پاک پہ رفعت بھی جھکی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
وہ میرا علی ہے، وہ میرا علی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
اک آن میں دروازہِ خیبر کو اکھاڑا
اک وار میں ہی جس نے ہے مرحب کو پچھاڑا
جس ذات کی کونین میں اک دھوم مچی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
وہ میرا علی ہے، وہ میرا علی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
علی علی ! علی علی ! علی علی علی !
علی علی ! علی علی ! علی علی علی !
امت کا نگہبان جسے رب نے بنایا
سرکار نے بستر پہ جسے اپنے سلایا
جس ذات کا قرآن میں بھی ذکرِ جلی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
وہ میرا علی ہے، وہ میرا علی ہے
وہ میرا علی، میرا علی، میرا علی ہے
جو پل میں فقیروں کو بناتا ہے شہنشاہ
آپ میرے ہیں یہ بتا جانا
وہ وقتِ آخر حضور آ جانا
لا کے تشریف خوابِ احمد میں
اپنی چادر بھی کر عطا جانا
وقتِ آخر حضور آ جانا