الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا
ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت
بندہ ملنے کو قریب حضرت قادر گیا
پل سے اتارو راہ گذر کو خبر نہ ہو
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے
تمنا مدتوں سے ہے جمال مصطفیٰ دیکھوں
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا
تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
جو بنوں پر ہے بہار چمن آرائی دوست
چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو
دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
دشمنِ احمد پہ شدت کیجیے۔ امام احمد رضا خان بریلوی
دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں
رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
سرسوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا۔ امام احمد رضا خان بریلوی
سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے
طلب کا منھ تو کس قابل ہے یاغوث۔ امام احمد رضا خان بریلوی
کرم کی آ تی ہے ایسی بَہار توبہ سے
اللہ میرا دہر میں اعلیٰ مقام ہو
اللہ نے پہنچایا سرکارﷺ کے قدموں میں
ماہ طیبہ نیر بطحا صلی اللہ علیک وسلم
نام اعلی ہے تیرا حضرت اعلی تیرا
نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
نہ عرش ایمن نہ اِنِّیْ ذَاہِبٌ میں میہمانی ہے۔ امام احمد رضا خان بریلوی
نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیالِ رحمت تھپک رہا ہے
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے (قصیدہِ معراجیہ)۔ امام احمد رضا خان بریلوی
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے