Naat Lyrics in Urdu

 

آگئے مصطفیٰ ﷺ آگئے مصطفیٰﷺ

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا

ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت

بندہ ملنے کو قریب حضرت قادر گیا

پل سے اتارو راہ گذر کو خبر نہ ہو

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے

تجلی نور قدم غوث اعظم

تمنا مدتوں سے ہے جمال مصطفیٰ دیکھوں

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا

تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک

جو بنوں پر ہے بہار چمن آرائی دوست

چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو

دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح

دشمنِ احمد پہ شدت کیجیے۔ امام احمد رضا خان بریلوی

دل کو اُن سے خدا جدا نہ کرے

دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں

ذرے جھڑ کر تیری پیزاروں کے

ذرے جھڑ کر تیری پیزاروں کے

رشک قمر ہوں رنگ رخ آفتاب ہوں​

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ

زائرو پاس ادب رکھ ہوس جانے دو

سرسوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا۔ امام احمد رضا خان بریلوی

سرسوئے روضہ جھکا پھر تجھ کی

سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے

سقاني الحب كاسات الوصال

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے

شبِ قدر آئی

شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے

طلب کا منھ تو کس قابل ہے یاغوث۔ امام احمد رضا خان بریلوی

قلب کو اس کی رویت کی ہے آرزو

کرم کی آ تی ہے ایسی بَہار توبہ سے

اللہ اللہ شہ کونین جلالت تیری

اللہ میرا دہر میں اعلیٰ مقام ہو

اللہ نے پہنچایا سرکارﷺ کے قدموں میں

ماہ طیبہ نیر بطحا صلی اللہ علیک وسلم

المدد المدد یا خدا یا خدا

مرحبا عزت و کمالِ حضور

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

نام اعلی ہے تیرا حضرت اعلی تیرا

نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا

نہ عرش ایمن نہ اِنِّیْ ذَاہِبٌ میں میہمانی ہے۔ امام احمد رضا خان بریلوی

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیالِ رحمت تھپک رہا ہے

واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے (قصیدہِ معراجیہ)۔ امام احمد رضا خان بریلوی

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا

یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں

یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے