اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری
فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری
جھولیاں کھول کے بے سمجھے نہیں دوڑ آئے
ہمیں معلوم ہے دولت تیری، عادت تیری
ہمیں معلوم ہے کہ واہ کیا جود و کرم ہے
شہِ بطحا تیرا کہ ‘نہیں’ سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
تو جھولیاں کھول کے بے سمجھے نہیں دوڑ آئے
ہمیں معلوم ہے دولت تیری عادت تیری
تو ہی ہے ملکِ خدا ملکِ خدا کا مالک
راج تیرا ہے زمانے میں حکومت تیری
اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری
مجمعِ حشر میں گھبرائی ہوئی پھرتی ہے
ڈھونڈنے نکلی ہے مجرم کو شفاعت تیری
وہ چین پائیں گے تڑپتے ہوئے دل محشر میں
غم کسے یاد رہے دیکھ کے صورت تیری
دیکھنے والے کہا کرتے ہیں اللہ اللہ
کہ یاد آتا ہے خدا دیکھ کے صورت تیری
اور ہم نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حد لیکن
تو ہے اُن کا تو حسنؔ، تیری ہے جنت تیری
اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری
فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری