قلب کو اس کی رویت کی ہے آرزو

 

اللہ اللہ اللہ اللہ

قلب کو اس کی رویت کی ہے آرزو
جس کا جلوہ ہے عالم میں ہر چار سو
بلکہ خود نفس میں ہے وہ سبــحـنــه
عرش پر ہے مگر عرش کو جستجو

 

اللہ اللہ اللہ اللہ

 

عرش و فرش و زمان و جہت اے خدا
جس طرف دیکھتا ہوں ہے جلوہ ترا
ذرے ذرے کی آنکھوں میں تو ہی ضیا
قطرے قطرے کی تو ہی تو ہے آبرو

 

اللہ اللہ اللہ اللہ

 

تو کسی جا نہیں اور ہر جا ہے تو
تو منزہ مکاں سے مبرہ زسو
علم و قدرت سے ہر جا ہے تو کو بکو
تیرے جلوے ہیں ہر ہر جگہ اے عفو

 

اللہ اللہ اللہ اللہ

سارے عالم کو ہے تیری ہی جستجو
جن و انس و ملک کو تری آرزو
یاد میں تیری ہر ایک ہے سو بسو
بن میں وحشی لگاتے ہیں ضربات ہو

اللہ اللہ اللہ اللہ

نغمہ سنجان گلشن میں چرچا تیرا
چہچہے ذکر حق کے ہیں صبح و مسا
اپنی اپنی چہک اپنی اپنی صدا
سب کا مطلب ہے واحد کے واحد ہے تو

اللہ اللہ اللہ اللہ

طائران جناں میں تری گفتگو
گیت گاتے ہی گاتے ہیں وہ خوش گلو
کوئی کہتا ہے حق کوئی کہتا ہے ہو
اور سب کہتے ہیں لاشــريک لــه

اللہ اللہ اللہ اللہ

بلبل خوش نوا طوطی خوش کلو
زمزمہ خواں ہیں گاتے ہیں نغمات ہو
قمری خوش لقا بولی حق ســــــرہ
فاختہ خوش ادا نے کہا دوست تو

اللہ اللہ اللہ اللہ

 

صبح دم کر کے شبنم سے غسل و وضو
شاہدان چمن بستہ صف روبرو
ورد کرتے ہیں تسبیح سبــــحـــانــه
ھـو ولا غیــرہ ھـو ولا غیــرہ

اللہ اللہ اللہ اللہ

ہر نہال چمن ذکر سے ہے نہال
ذکر حق ہی اسے کرتا ہے مالا مال
ذکر سے چوک کر ہوتا ہے وہ نڈھال
ذکر ہی تیرا ہے اس کی وجہہ نمو

اللہ اللہ اللہ اللہ

وہ بھی تسبیح سے رکھتا ہے اشغال
جو نہیں رکھتا منہ اور لسان مقال
پھر بھی گویائے تسبیح ہے اس کا حال
اس کی حالی زبان کہتی ہے تو ہی تو

اللہ اللہ اللہ اللہ

جو ہے غافل ترے ذکر سے ذوالجلال
اس کی غفلت ہے اس پر وبال و نکال
قعر غفلت سے ہم کو خدایا نکال
ہم ہوں ذاکر ترے اور مذکور تو

اللہ اللہ اللہ اللہ

ہے زبان جہاں حمد باری میں لال
دم کوئی حمد کا مارے کس کی مجال
تابا مکان ہم رکھتے ہیں قیل و وقال
اس کو مقبول فرمالے رحمت سے تو

اللہ اللہ اللہ اللہ

بھر دے الفت کی مے سے ہمارا سبو
دل کی آنکھوں میں تو اور لب پر ہو تو
کیف میں وجد کرتے پھریں کو بکو
ورد گایا کریں پے بہ پے سو بسو

اللہ اللہ اللہ اللہ

عفو فرما خطائیں میری اے عفو
شوق و توفیق نیکی کا دے مجھ کو تو
جاری دل کر کہ ہر دم رہے ذکر ہو
عادت بد بدل اور کر نیک خو

اللہ اللہ اللہ اللہ

بد ہوں مولٰی مرے مجھ کو کر دے نکو
رخت اعمال ہے چاک فرما رفو
تیری رحمت کی امید ہے اے عفو
کہ ہے ارشاد قرآن لا تـقـنـطـو

اللہ اللہ اللہ اللہ

داخل خلد ہم کو جو فرمائے تو
ہم ہوں اور خور و غلماں لب آبجو
اور جام طہور اور مینا سبو
دیکھیں اعدا تو رہ جائیں پی کر لہو

اللہ اللہ اللہ اللہ

ٹھنڈی ٹھنڈی نسیمیں چلیں میرے رب
فتنوں کی دھول سے پاک ہووے عرب
ایسا برسا بہا دے جو خاشاک سب
تری رحمت کے بادل گھرے چار سو

اللہ اللہ اللہ اللہ

رحم فرمایا خدایا حرم پاک ہو
تو نے تقدیس بخشی ہے جس خاک کو
دفع فرما وہاں پر ہے بیباک جو
اور گرا بجلیاں قہر کی بر عدو

اللہ اللہ اللہ اللہ

نور کی تیری ہے اک جھلک خوبرو
دیکھے نوری تو کیوں کر نہ یاد آئے تو
ان کا سرور ہے مظہر ترا ہو بہو
مـن رانـي را الـحـق ہے حق موبو

اللہ اللہ اللہ اللہ

خواب نوری میں آئیں جو نور خدا
بقعہ نور ہو اپنا ظلمت کدا
جگمگا اٹھے دل چہرہ ہو پر ضیا
نوریوں کی طرح شغل ہو ذکر ہو

اللہ اللہ اللہ اللہ

(کلامِ حضور مفتی اعظم هند حضرت مولانا مصطفٰی رضا خان نوری رضی اللہ تعالٰی عنه)

Rate this:

Leave a Comment