nisbat se teri kyun na rahoon sarfaraz main qawwali lyrics

نسبت سے تیری کیوں نہ رہو سرفراز میں
بندہ تیرا ہوں اے میرے بندہ نواز میں

دنیا سے واسطہ ہے نہ شاہوں سے کچھ غرض
کرتا ہوں تیرے در کی گدائی پہ ناز میں

کرتا رہوں گا کوچہ محبوب کا طواف
دل میں جلا کے شمع سوز و گداز میں

دیدار یار اہل محبت کی ہے نماز
پھر کیوں نہ تیری دید کو سمجھو نماز میں

جب سے کرم ہوا ہے تیری چشم ناز کا
رہتا ہوں اپنے آپ سے بھی بے نیاز میں

سر کو جھکا کے یار کے قدموں پہ عطاؔ
کرتا ہوں اپنے اوج مقدر پہ ناز میں

Leave a Comment