ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت

ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت

یاد بھی اب تو نہیں رنج و الم کی صورت

نامِ والا تِرا اے کاش، مثالِ مجنوں

ریگ پر انگلیوں سے لکھوں قلم کی صورت

خواب میں بھی نہ نظر آئے اگر تم چاہو

درد و غم رنج و الم ظلم و ستم کی صورت

جائیں گلشن سے تو لُٹ جائے بہارِ گُلشن

دشت میں آئیں تو ہو دشت اِرم کی صورت

 

نوری بریلوی

مصطفیٰ رضا

Posted by Saghir at 20:12

Leave a Comment