Baya’n kya kare koi azmat ali ki -منقبت پاک
منقبت پاک
———————————
بیاں کیا کرے کوئی عظمت علی کی
نبی کی زباں پر ہے مدحت علی کی
مرا دل نہ کیوں کر کرے ذکر حیدر
رگوں میں بسی ہے محبت علی کی
اکھاڑا ہے اک آن میں باب خیبر
ہے دنیا میں یکتا شجاعت علی کی
انھیں اپنے بستر پہ شہ نے سلایا
ہے کس اوج پر دیکھو قسمت علی کی
یہ فرمان ہے شاہ جن و بشر کا
کہ تکنا عبادت ہے صورت علی کی
زمین و زماں میں ہے ڈنکا علی کا
مکین و مکاں میں ہے شہرت علی کی
فصاحت ،بلاغت ہے خود جس پہ قرباں
ہے ایسی نرالی خطابت علی کی
انھیں اپنا بھائی کہا مصطفیٰ نے
شہ دیں سے ایسی ہے قربت علی کی
کوئی ان کے در سے نہیں جاتا خالی
مثالی ہے جگ میں سخاوت علی کی
جو محشر میں ولیوں کی محفل سجے گی
تو ہوگی یقیناً صدارت علی کی
معطر ہوا جس سے باغ تصوف
اے سیف حزیں ہے وہ نکہت علی کی
WRITER – سیف قادری الہ آبادی